Breaking News
Home / Pakistan / اورنج میٹرو : لاہور ، کراچی بننے جارہا ہے

اورنج میٹرو : لاہور ، کراچی بننے جارہا ہے

لا ہور جہاں بسنے والے غریب شہری سو فیصد زہر ملا پانی پیتے ہیں اور جہاں کراچی میں طویل بد امنی کے بعد پنجاب کے دیہی علاقوں کا انسانی سیلاب فوج ظفر موج آباد ہونے کو بے قرار ہے اور جہاں نہر نے غریب اور امیر لاہور کے درمیان واضع لکیر کھنچ دی ہے اس لاہور میں مسلم لیگ ن نے گزشتہ دو ہزار تیرہ کے انتخابات سے قبل اپنے کارنامے دکھانے بتانے کے لئیے پنجاب کے دیہی علاقوں میں پانی صاف کرنے سے لیکر صحت تعلیم کا وہ بجٹ بھی میٹرو بس منصوبے میں جھونک دیا تھا جو پہلے ہی اونٹ کے منہ میں زیرہ جیسا تھا اس منصوبے پر سو ارب روپے سے زائد جھونکے گئے کہ شریف برادران کو لاہور میں چلتا پھرتا ہر شہری رات دن دیکھ دیکھ کر یاد کرتا رہے کہ لاہوریوں کے سر پر دوڑنے والی اس بس منصوبے کے مخالفین سینکڑوں کہانیاں سناتے ہیں مگر پنجاب حکومت صاف پانی تو دینے کو تیار نہیں کہ نہر کی دوسری طرف جہاں یہ حکمراں طبقہ آباد ہے بوتل کا پانی پیتا ہے اب حکمرانوں کا یہ ٹولہ اورنج ٹرین منصوبے کو ہر ہر حال میں آئندہ انتخابات سے قبل پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے جسے عمران خان نے عدالت کے ذریعے روکے رکھا تاہم اسے اب عدالت نے مشروط طور پر بحال کرکے دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دیدی ہے ، دو سو ارب روپے سے تعمیر کیا جانے والا یہ منصوبہ جسے وزیر علی پنجاب چین کا تحفہ قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے چین نے یہ دو ارب روپے اپنی جیب سے لاہوریوں کو شہباز شریف کی محبت میں دان کردئیے ہیں تاہم سچائ اس کے برعکس ہے اور اس کی پائ پائ پاکستانی عوام کو کئی گنا کرکے واپس لوٹانی ہے اورنج ٹرین جس کی تعمیر کے ابتدائ مرحلے میں ہی پچیس جانوں کی قربانی بھی دی جاچکی ہے اسقدر جدید اور پر آسائش ہے کہ اسطرح کی ٹرین یورپ میں بھی ابھی خال خال ہی ہے لوہور کے معاشی سماجی حالات کے پسمنظر میں حکمرانوں کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگانے کے لئیے بھی یہ منصوبہ بہت کافی ہے لاہور جس کی آبادی میں رات دن اضافہ ہورہا ہے اور اس نئی آبادی کے لئیے کوئ منصوبہ بندی نظر نہیں آتی بے روز گاری کے ساتھ تعلیم اور صحت کے وہ مسائل جنم لے رہے ہیں کہ جسے حکمرانوں کا خریدا ہوا میڈیا اسطرح چھپا رہا ہے جیسے بدبو کے ڈھیر پر مخمل کی چادر ڈالکر چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے میٹرو اور اورنج ٹرین منصوبہ اس بدبو کے ڈھیر پر مخمل کی چادر ہی قرار دی جارہی ہیں چین کی جانب سے ملنے والے اس تحفے پر کہاں کہاں اور کیسے کیسے رقم نکال کر لگائ جارہی ہے یہ کہانی کسی طور میٹرو منصوبے کی کہانی سے مختلف نہیں ، پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف نے عدالت سے منصوبے کی بحالی کا فیصلہ ملتے ہی آج دوسرے ہی دن منصوبے کے علاقے کا طوفانی دورہ کیا ہے اور انکی پہلی ہدایت پھر وہی ہے کہ کچھ بھی کرو اگلے عام انتخابات سے پہلے انھیں منصوبہ تیار چاہئیے کہ گندہ پانی پی کر ہیپیٹائٹس سی سے سسک سسک کر مرنے والے غریب لاہوری ٹرین کی چکا چوند دیکھ کر ایک بار پھر ووٹ کی شکل میں اقتدار ان حکمرانوں کی جھولی میں ڈال سکیں ،ادھر اسلام آباد کے کچھ مقتدر حلقوں کا دعوی ہے کہ عدالت نے اورینج ٹرین منصوبے کی بحالی کا فیصلہ حکمت عملی کے تحت دیا ہے کہ اوّل تو ڈھائ سال سے عدالت میں پڑے اس منصوبے کو عام انتخابات سے قبل حکومت کے موجودہ حالات میں پائہ تکمیل تک پہنچانا ناممکن ہے کہ اب کوئ نہیں جانتا یہ حکومت اور کتنے دن کی مہمان ہے دوسرے جب اسی عدالت سے آئندہ آنے والے دنوں میں ریفرنس کیسز میں میاں نواز شریف اور انکے ذہن دان کے دیگر افراد کے خلاف فیصلے آئیں گے تو حکمرانوں کے خلاف فیصلوں کو ٹرین منصوبے کے فیصلے سے نیوٹرل اور غیر جانبدار ثابت کرنے میں آسانی ہوسکے لاہور جہاں کے ھسپتالوں میں عام مریضوں کے لئیے دوا تو دور کی بات ہے بستر بھی مہیا نہیں اور جہاں کےڈاکٹر بھی اکثر ہڑتال پر رہتے ہیں اس لاہور میں گزشتہ دس سالوں میں پنجاب کے دیہی علاقوں سے ہی نہیں پنجاب کے دوسرے شہری علاقوں کے ساتھ کراچی کی بد امنی اور معاشی گھٹن سے تنگ آکر بھی ایک کثیر تعداد آکر آباد ہوئی ہے اور کہا جارہا ہے آبادی کے بڑھتے دباؤ کے ساتھ ناہموار معشیت بنیادی سہولیات کا فقدان ایک دن یہاں بھی کراچی جیسے حالات کو جنم دے گا کہ کراچی میں تو یہ کہکر حکمران طبقے نے جان چھڑا لی تھی کہ کراچی میں سندھی پنجابی مہاجر پشتون آبادیاں لسانی تعصب کی بنیاد پر ایک دوسرے سے گھتم گھتا ہیں حالانکہ کراچی میں بھی اس تعصب کو جنم دینے کی بنیاد معاشی ناہمواری اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے ہی رکھی تھی اب یہی صورت حال اگر لاہور میں جنم لیتی ہے تو میٹرو اونج قائم کرنے والے حکمران اس صورت حال کا الزام دھرنے کے لئیے ملک کی باقی قوموں کو اس شہر میں کیسے اور کہاں سے لائیں گے ۔۔۔ یہ وہ ملین ڈالر کا سوال ہے جس کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں

Check Also

کراچی میں پولیس اورڈاکوؤں میں فائرنگ کا تبادلہ، شہری جاں بحق

کراچی: شاہراہ فیصل پرپولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک شہری ...

Leave a Reply

%d bloggers like this: