Home / Sports / بھارتی حکومت کرکٹ کو مالی مفادات کی بھٹی میں جھونکنے لگی

بھارتی حکومت کرکٹ کو مالی مفادات کی بھٹی میں جھونکنے لگی

ممبئی: بھارتی حکومت کرکٹ کو مالی مفادات کی بھٹی میں جھونکنے لگی جب کہ آئی سی سی ایونٹس کو ٹیکس میں چھوٹ نہ دینے کی نئی روایت قائم کردی۔

دنیا بھر کے بیشتر ملکوں میں اسپورٹس کو معاشی نمو کا بھی اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، کسی بھی ایونٹ کے انتظامات اور انعقاد، شائقین کی آمدورفت، اشتہاری مہم اور سیاحت میں اضافے جیسے کئی مقاصد کو دیکھتے ہوئے حکومتیں اولمپکس، فٹبال ورلڈکپ، عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ حتیٰ کہ فٹبال لیگز میں بھی ٹیکس کی کمائی خزانے میں ڈالنے کی کوشش نہیں کرتیں لیکن بھارتی حکومت نے اس معاملے میں بھی بنیے کی سوچ رکھی ہے۔

ورلڈٹی ٹوئنٹی 2016کے موقع پر آئی سی سی اور بی سی سی آئی کی منت سماجت کے باوجود میڈیا رائٹس رکھنے والے ادارے سے ٹیکس وصول کرلیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے کرکٹ کی عالمی باڈی کو ادائیگی میں سے رقم منہا کر لی، آئی سی سی کو اس وقت 3کروڑ ڈالر کے قریب نقصان ہوا تھا۔
آمدنی کی یہی رقم آگے چل کر ممبر ملکوں میں تقسیم ہوتی ہے جس سے وہ کھیل کے فروغ کیلیے کام جاری رکھتے ہیں، یوں بھارتی حکومت صرف آئی سی سی کا ہی نہیں عالمی کرکٹ کا بھی نقصان کرتی ہے۔

بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ایونٹس کو حکومت کی جانب سے ٹیکس میں چھوٹ نہ دینے پر تشویش کا اظہار دبئی میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں بھی کیا گیا،اس موقع پر بتایا گیا کہ حکومتی ہٹ دھرمی برقرار رہی توچیمپئنز ٹرافی 2021 میں آئی سی سی کو 10کروڑ ڈالر کا نقصان ہوگا، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016 کے بعد دوسری بار بھاری مالی نقصان اٹھانے کے بجائے متبادل میزبان ملک کی تلاش پہلے ہی شروع کردی گئی ہے۔

سری لنکا اور بنگلہ دیش مضبوط امیدوار ہونگے،ٹیکس پالیسی کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد بھارت میں نہ ہوا تو ورلڈکپ 2023کی میزبانی بھی چھن جائیگی، انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر خفت اٹھانے والا بھارتی بورڈ اپنی حکومت کو ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کی کوشش کریگا، اسے آئی سی بی کی معاونت بھی حاصل ہوگی تاہم حتمی فیصلہ بھارتی حکام کو ہی کرنا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت میں ہونیوالی چیمپئنز ٹرافی 2006اور ورلڈکپ 2011میں کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں سخت پالیسی اختیار کی گئی،ورلڈکپ میں ٹیکس کی چھوٹ دلانے کیلیے بی سی سی آئی نے کوئی مہم نہیں چلائی بلکہ آئی سی سی وفد میں شامل احسان مانی اور جگموہن ڈالمیا نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

بھارتی ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے اس حوالے سے سوال پر کہا کہ کرکٹ بھارت اور دنیا میں مقبولیت کی اتنی سیڑھیاں چڑھ چکی کہ اس کو ٹیکس میں چھوٹ سمیت مالی سہاروں کی ضرورت نہیں رہی، بھارت میں فٹبال کے بہتر مستقبل کیلیے سپورٹ کرنا وقت کا تقاضا تھا، اس لیے گزشتہ سال ہونے والے انڈر 17ورلڈکپ سے حکومت نے کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا۔

بھارتی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس میں کہا گیاکہ اس عہدیدار اور دیگر حکام کی بات سننے کے بعد فی الحال ٹیکس میں چھوٹ دینے کی پالیسی کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے آنے کا امکان نہیں جب کہ چیمپئنز ٹرافی2021کے بھارت میں انعقاد یا متبادل میزبان ملک کا فیصلہ چند ماہ میں ہوجائے گا۔

Check Also

پی ایس ایل فائنل کے دن 8 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے

کراچی: پی ایس ایل فائنل کے روز سیکیورٹی کے لیے 8 ہزاراہلکارتعینات کیے جائیں گے ...

Leave a Reply

%d bloggers like this: