Home / Pakistan / حج کوٹہ، سرکاری و پرائیویٹ اسکیم میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کا فیصلہ

حج کوٹہ، سرکاری و پرائیویٹ اسکیم میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کا فیصلہ

راچی: حج آپریشن 2017 میں سرکاری اسکیم میں شکایات کے بعد حج کوٹا سرکاری و پرائیویٹ اسکیم میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.
حکومت نے وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی ہے کہ حج کوٹا سرکاری اور پرائیویٹ اسکیم میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے تاکہ سرکاری سیکٹر پر عازمین حج کے انتظامات کا زیادہ بوجھ نہ پڑے، مردم شماری کے بعد پاکستان کے حج کوٹے میں 28 ہزار کا اضافہ ہوگا جس کے بعد حکومت کیلیے انتظامات کرنا مشکل ہوجائے گا، مردم شماری کے نتیجے میں پاکستان کا حج کوٹا ایک لاکھ 80 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 7 ہزار ہوجائے گا جب کہ مردم شماری کے نتیجے میں حج کوٹے میں 28 ہزار564 کا اضافہ ہوگا۔
سرکاری اسکیم کا حج کوٹا 60 فیصد کے حساب سے بڑھ کر ایک لاکھ 25 ہزار اور پرائیویٹ اسکیم کا حج کوٹا بڑھ کر 83 ہزار ہوجائے گا، حج کوٹے میں 28 ہزار کے اضافے کے بعد حکومت کیلیے ایک لاکھ 25 ہزار عازمین حج کیلیے انتظامات کرنا آسان کام نہیں ہوگا، اس وقت کل حج کوٹے کا 60 فیصد سرکاری اور 40 فیصد پرائیویٹ اسکیم کیلیے مختص ہے۔
حج آپریشن 2017 کے دوران حکومت سرکاری اسکیم میں عازمین حج کو سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہی، عازمین حج کو مزدلفہ، منیٰ اور عرفات میںکھانے، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، عازمین حج کو عزیزیہ سے مکہ آنے میں بھی مشکلات پیش آئیں جس کے خلاف عازمین حج نے احتجاج بھی کیا تھا جب تک حکومت کے پاس حج کوٹا 50 فیصد تھا تو شکایات کا تناسب کم تھا لیکن سرکاری اسکیم کا حج کوٹا 50 فیصد سے بڑھاکر 60 فیصد کرنے کے بعد عازمین حج کی شکایات میں اضافہ ہوگیا۔
حج 2017 کے دوران حکومت نے سعودی حکومت کی جانب سے 10 ہزار کا اضافی کوٹا بھی حاصل کیا مگر اس کوٹے میں 5 ہزارکا کوٹا اپنی من پسند کمپنیوں کو دے دیا گیا جبکہ 5 ہزار کا کوٹا ضائع کر دیا گیا مختلف ممالک میں حج آپریشن پرائیویٹ سیکٹر میں انجام دیا جاتا ہے۔
سعودی تعلیمات کے مطابق حج آپریشن پرائیویٹ سیکٹر سے آپریٹ کیا جانا چاہیے، پاکستان میں وزارت مذہبی امور سے رجسٹرڈ 2758 کمپنیاں ہیں، ان کمپنیوں کو اگر حج کوٹا دیا جائے تو یہ کمپنیاں حج آپریشن میں اپنی ذمے داریاں پوری کر سکتی ہیں، حج آپریشن 2017 میں غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
2017 میں فریضہ حج کی ادائیگی کرنے والے حجاج کرام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حج 2017 میں عازمین حج کو سہولتوں کی عدم فراہمی کے ذمے دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور حج آپریشن 2018 کے دوران عازمین حج کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں اور حج پالیسی 2018 کا اعلان جلد کیا جائے۔

Check Also

شہدائے ماڈل ٹاؤن کا خون رائیگاں نہیں جائیگا، آصف زرداری

شلاہور: سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کا خون ...

Leave a Reply

%d bloggers like this: