Home / Pakistan / لاہور ہائی کورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم

ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی درخواست پر انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف پنجاب حکومت نے انٹرا کورٹ میں اپیل دائر کی تھی ۔ جس پر جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی فل بینچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 24 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عدالت عالیہ نے سنگل بینچ کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ لواحقین کو 3 روز میں فراہم کرنے جب کہ 30 روز میں شائع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
رپورٹ جاری ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں14 کارکنوں کو شہید جب کہ 90 سے زائد افراد کو گولیاں ماری گئیں، واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب نے خود جوڈیشل کمیشن بنایا تھا اور کہا تھا کہ ذمہ داری ان پرآئی تو وہ فوری استعفیٰ دیں گے، صوبائی حکومت نے ساڑھے تین سال تک رپورٹ دبائے رکھی،ہم نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے، پنجاب کے وزرا کی ایما پر ہی ہمارے دفتر اور کارکنان پر حملہ کیا گیا ہمارے پاس ثبوت بھی موجود تھے، حکومت نے قاتلوں کی نشاندہی کی وجہ سے رپورٹ کو ساڑھے 3 سال تک دبا کر رکھا لیکن آج عدالت نے ہمارے مؤقف کی تائید کی اور سانحے میں حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا، بہت جلد شریف برادارن جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے اور شہدا کے لواحقین کو انصاف ملے گا۔
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں ہمیں سول سیکریٹریٹ پنجاب سےغرض ہے، ہمیں وہاں رپورٹ لینے جانا ہے، حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ دے دی تو بات ختم ہوجائے گی، ورنہ ہمیں وہاں بیٹھ جانا ہے، بعد کی بات بعد میں دیکھیں گے، رپورٹ شائع کردی گئی تو واپس آجائیں گے۔ اس موقع پر طاہر القادری نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ ’’میرا کنٹینر بھی تیار کرکے بھجوادیں،‘‘
دوسری جانب وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت میرٹ اورقانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے، راولپنڈی میں بیٹھے شیطان نے رپورٹ سے متعلق ہمارے خلاف طوفان اٹھا رکھا تھا۔ رپورٹ میں موقع پر موجود کسی پولیس اہلکار کو بھی ذمے دار نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ تصادم کی صورت حال پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے پیدا کی۔ طاہر القادری جنہیں مظلوم کہہ رہے ہیں وہ پولیس پر حملے کے لیےجمع کیے گئے تھے۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ شہادت کے طور پر پیش نہیں کی جا سکتی کیونکہ قانون کی نظر میں یہ رپورٹ غیر موثر ہے۔
واضح رہے کہ جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی دفتر کے سامنے تجاوزات ہٹانے کے دوران جھڑپ میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے تھے۔

Check Also

شہباز شریف نے چوہدری نثار کو سینیٹ انتخابات میں متحرک کردار ادا کرنے پر راضی کر لیا

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے چوہدری نثار کو متحرک کردار ادا کرنے پر راضی ...

Leave a Reply

%d bloggers like this: