Home / World / محل سے سڑک پرآجانے والے بچے

محل سے سڑک پرآجانے والے بچے

لکھنو: بھارت میں والدین کی موت کے نتیجے میں دو بچے محل سے سڑک پر آگئے۔

لکھنو شہرمیں اندرانگر شالیمار چوک سے تعلق رکھنے والے بھارتی آرمی آفیسر کے دو بچے انجنا اور ارون والدین کی موت کے بعد بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آج سے 13 سال قبل 2004میں بھارتی آرمی آفیسر اور ان کی اہلیہ کی ایک کار حادثے کے دوران موت واقع ہوگئی تھی. والدین کی موت کے وقت انجنا کی عمر22 برس تھی اورانہوں نےلکھنو یونیورسٹی میں ایم اے فرسٹ ائیر میں داخلہ لیا تھا لیکن اس حادثے کے بعد انجنا کی تعلیم چھوٹ گئی والدین کی موت کے بعد ان کی بڑی بہن کو اتنا صدمہ ہوگیا تھا کہ کچھ دنوں بعد ان کی بھی موت واقع ہوگئی۔

پے درپے اپنے پیاروں سے سے دور ہونے کا صدمہ انجنا اوران کا بھائی ارون برداشت نہ کرسکے۔ انجنا نے بتایا کہ ان کے والد کی موت کے بعد ان کے گر کا خرچ اٹھانےوالا کوئی نہیں تھا۔ وہ دونوں بہن بھائی گھر میں قید ہوکر رہ گئے تھے۔

انجنا نے روتے ہوئے بتایا کہ بل ادانہ کرنے پر ان کے گھر کی بجلی کاٹ دی گئی اور ان کا گھر کھنڈر میں تبدیل ہوگیا جب گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی تو انجنا بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئی۔ انجنا نے مزید کہا کہ ان کی زندگی کے13 سال نہایت تکلیف میں گزرے ہیں انہیں اب یاد بھی نہیں ہے کہ ان برسوں میں ان پر کیا گزری۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس اگست 2016 میں کسی نے انجنا کو روڈ پر بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تھا اور پولیس کو ان کے بارے میں آگاہ کیا، بعد ازاں پولیس نے ان دونوں بہن بھائیوں کو بھارتی شہر لکھنو کے نروان اسپتال میں داخل کرادیا۔ جب سے یہاں پر دونوں بہن بھائیوں کا علاج جاری ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب ان دونوں کو یہاں لایا گیا تھا اس وقت دونوں ٹھیک سے بول بھی نہیں پاتے تھے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ابتدا میں دونوں بہن بھائی گھر جانے کے لیےبے چین رہتے تھے لیکن ان کا گھراس قابل نہیں تھا جہاں انہیں جانے کی اجازت دی جاتی لہٰذا انہیں یہیں پر رکھا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انجنا کی حالت سنبھلنے کے باعث انہیں اسپتال کی کینٹین میں ملازمت دے دی گئی ہے جب کہ ان کے بھائی کا علاج فی الحال جاری ہے۔

Check Also

بابری مسجد شہید کرنے والے سکھ نے قبول اسلام کے بعد 90 مساجد بنا دیں

نئی دہلی: بابری مسجد کو شہید کرنے والے سکھ نے قبول اسلام کے بعد 90 ...

Leave a Reply

%d bloggers like this: