Home / Columns / مردوں کے لئے لفظ طوائف کیوں نہیں ؟

مردوں کے لئے لفظ طوائف کیوں نہیں ؟

مردوں کے لئے لفظ طوائف کیوں نہیں ؟

پاکستان کو ہندووں اور انگریزوں سے ہمارے بزرگوں نے کروایا اور موجودہ نسل اسے پھر سے اپنا غلام بنا رہی ہے ، ہر پاکستانی ضروری نہیں کہ پاکستانی ہو یا اسے وہاں رہنے کا حق حاصل ہو ، اس کے لئے کیپٹن صفدر جیسے انتہا پسند خیالات رکھنے والوں سے سند لینا ضروری بن گیا ہے ۔

کسی نے صحیح کہا ہے کہ نواز شریف جمہوریت کا، مریم ترقی پسند کی ، بھائی شہباز عسکریت پسند یا فوج کے دلدادہ ، اور داماد صاحب انتہا پسندوں کے دل کی آواز بن کر پوری قوم کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور بڑے احسن طریقے سے مل کر یہ سب دل جمعی سے کر رہے ہیں۔

ویسے داماد کا سسر کی پارٹی پر خود کش حملہ ہے یا کوئی سوچی سمجھی سازش ، جو بھی ہو مسالک کی آڑ لے کر پاکستانی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک انتہائی گھٹیارکیک اور غلیظ کاوش ہے ، میرا صرف ایک سوال ہے کہ کیا احمدی شہری پاکستان کاحصہ نہیں ہیں ؟ کاش کہ مرد کے لئے بھی کوئی طوائف کا نعم البدل لفظ دستیاب ہوتا تو کیپٹن صفدر جیسوں کے نام کر دیا جاتا۔

مسلم لیگ میں ایمان، تنظیم اور یقین محکم کی سخت کمی ہے کوئی بھی اٹھتا ہے اور چول مارکر جماعت کو ٹھیس پہنچا دیتا ہے۔ اُدھر کسی مصلحت کے تحت کیپٹن صفدر کی رویوں پر پی ٹی آئ کے چیرمین عمران خان خاموش ہیں ، شاید انہیں ابھی نعیم بخاری کی طرح لوگوں کی پہچان نہیں ہے ، کیونکہ نعیم بخاری تو ایک کلومیٹر سے عورت کے کردار کو پہچان لیتے ہیں، ان کی اس خصوصیت پر آج دنیا بھر سے ہزاروں کلومیٹر دور سے لوگ ان کے کردار کو پہچانتے ہوئے لعن طعن کر رہے ہیں۔

۳۳ ارب کی اسلامی کرپشن کرنے والے رضوان اختر باعزت ریٹائر ہو گئے ہیں ، ہمارے خیال میں تعزیرات پاکستان کے تحت پھانسی سے بھی بڑی سزا قبل از وقت باعزت ریٹائرمنٹ ہے۔ ویسے اس معاملے پر کوئی بھی اپنی ذاتی رائے یا قیاس آرائی نہ فرمائے ، تہتر کے آئین کے تناظر میں یہ قابل گرفت عمل ہوگا۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں ۔ کہیں کوئی توہین ہی نہ ہو جائے۔

کس طرح سے ہم اپنے وطن کو بنانا ریپبلک بنا کر دنیا بھر میں بدنام کر رہے ہیں۔ اسی لئے ہم سوچتے رہے کہ مردوں کے لئے لغت میں لفظ طوائف کیوں نہیں ہے ؟ وطن کی مٹی پکار کر کہہ رہی ہے کہ میرے جسم کو فروش نہ کرو لیکن ۳۳ ارب لے کر باعزت قبل از وقت ریٹائر ہونے والی طوائف تک کہاں یہ آواز پہنچتی ہے ۔ انہیں وطن کی عزت کی نہیں اپنی توہین کی فکر ہے ۔

اگر یہی بات ہے تو کیا خیال ہے اگلی آئینی ترمیم میں نماز روزہ زکوۃ حج جیسے بنیادی اراکین کے ساتھ اب توہین سپہ سالار پاکستان آرمی کا ایکٹ بھی آئین کا حصہ بنا دینا چاہیے، بلکہ ہماری تو رائے یہ ہے کہ پنڈی کی جانب پاوں کرکے سونا بھی بے ادبی قرار دے دینی چاہیے ۔

پورے کا پورا پاکستان اس وقت انتہا پسندی کی لپیٹ میں ہے، اب اپنی کرکٹ ٹیم کے متقی باریش انضمام الحق کو کوئی کچھ نہ کہے ، یہ سارا کا سار ملک ہی خلیفہ المومنین بننے کے چکر میں غرق کیا جا رہا ہے۔ ملک میں کچھ ایسی فضا بنا دی گئی ہے لوگ جمہوریت سے بےزار اور بچہ جمورا کے لئے تیار ہیں ۔

پی آئی اے کا پورا ایک عدد طیارہ غائب ہو گیا ہے ۔ نیب کی ڈرامے بازیاں جاری ہیں ۔ عزیر بلوچ والی فائل کھل بند ہو تی رہتی ہے ، فوجی ترجمان صحافی اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر کسی اور کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جس میں تین رپورٹر آگے آگے اور مداری کا تماشا لگائے ہوئے عامر لیاقت گھنگرو باندھے زور زور سے ڈفلی بجا رہا ہے۔

ایسے ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بہت زور کا مارشل لا آرہا ہے اور بہت سے میڈیا ہاوسز والے تو لوٹا ہاتھ میں تھامے تیار کھڑے ہیں ۔ ہمارے اس عالی وقار پاکستان میں جس کی انگلی اسی کی بھینس ، یا جس کا ایمپائروہی ناٹ آوٹ باقی تو ایل بی ڈبلیوہیں۔ خیر ابھی تو “وردی “شروع ہوئی ہے ۔ وزیر داخلہ بھی وہ اور خارجہ بھی وہ ۔

ایک طرف کراچی میں ایک عدد چاقو مار خواتین پر حملہ کرکے ان کے دامن چاک کر رہا ہے تو دوسری جانب دنیا بھر میں غیر اعلانیہ مارشل لا کی افوا ہوں کی وجہ سے پاکستان کی عزت ہر طرف سے تار تار ہو رہی ہے ۔ ایسا تو شاید کسی طوائف کے ساتھ بھی نہ ہوتا ہو۔

فوجی ترجمان غفور بھائی کا کہنا ہے کہ پیچھے مڑ کرنہیں دیکھنا چاہیے ، کہیں ان کا اشارہ نوے ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے والی رسم کی طرف تو نہیں ہے ؟ ان کا جارحانہ رویہ دیکھ کر لگا کہ جیسے کوئی فیلڈ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اپنی محکوم عوام سے رعونت کے ساتھ مخاطب ہو ۔

یاد رہے کہ خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے ۔ پچھلے دنوں ایک خاموش چیخ سنائی دی کہ “تمہیں دینا پڑے گی آزادی ، ہم لے کے رہیں گے آزادی ” شاید محروم طبقے کی باطل سے لڑائی ایک آزاد وطن حاصل کرکے بھی ختم نہیں ہوئی ،۔

ہم ابھی تک سنی، شیعہ ، بریلوی ، دیوبندی ، ہزاروال، قادیانی اور نہ جانے کیا کیا تو بن گئے ، جناح کے پاکستان کے باسی نہ بن پائے ۔ آزادی کی جنگ جیت کر کچھ چنگاریاں رہ گئی تھیں جن میں پھر سے شعلے بھڑکائے جا رہے ہیں ، آزادی کی لڑائ کہاں ختم ہوئی تھی وہ تو آج بھی جاری ہے ۔

کہتا ہے کون ختم ہوئی کربلا کی جنگ ۔۔۔
ہم لڑ رہے ہیں آج بھی فوج یزید سے ۔۔۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: