Home / World / کرپشن کیخلاف کارروائی تخت حاصل کرنے کی کوشش نہیں، سعودی ولی عہد

کرپشن کیخلاف کارروائی تخت حاصل کرنے کی کوشش نہیں، سعودی ولی عہد

ریاض: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف سعودی عرب میں ہونے والی حالیہ کارروائی کو تخت حاصل کرنے کی کوشش قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔
نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ 80 کی دہائی سے سعودی عرب کو کرپشن نے جکڑا ہوا ہے، ایک اندازے کے مطابق سعودی حکومت کے اخراجات کا 10 فیصد حصہ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے اور اس میں اوپر سے لیکر نیچے تک تمام افراد ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف سعودی عرب میں ہونے والی حالیہ کارروائی کو تخت حاصل کرنے کی کوشش قرار دینا مضحکہ خیز ہے، ملک میں ہرسال کرپشن ختم کرنے کے لیے نچلی سطح پر کارروائی کی جاتی تھی جو ہمیشہ ناکام ہوتی تھی۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : کرپشن کے الزام میں الولید بن طلال سمیت 11 شہزادے گرفتار
محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ میرے والد نے جب تخت سنبھالا تب ہی انہوں نے کرپشن کو جڑ سے پکڑنے کی ٹھان لی تھی، 2015 میں انہوں نے کرپشن کو اعلیٰ سطح سے ختم کرنے کے لیے کمیٹی بنائی جس نے 2 سال تک تحقیق کرکے 200 ناموں کو شارٹ لسٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار شہزادوں کو تفتیش کے دوران جیسے ہی کرپشن کیسز کی فائلز دکھائی گئیں تو 95 فیصد رقم واپس کرنے پر راضی ہوگئے، ایک فیصد نے کہا کہ وہ ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ کرپشن میں ملوث نہیں جب کہ 4 فیصد عدالت میں جانا چاہتے ہیں۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : بدنامِ زمانہ بلیک واٹر سعودی شہزادوں سے تفتیش کررہی ہے
سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کریک ڈاؤن کے سوا کوئی طریقہ کار نہیں تھا، ہم نے شہزادوں کو گرفتار کرکے پیغام بھیجا ہے کہ اب کوئی نہیں بچ سکتا اور اس کا اثر بھی نظر آرہا ہے، اب سب سے لوٹی ہوئی رقم واپس لی جائے گی جو 100 ارب ڈالر تک ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ ایرانی رہنما مشرق وسطیٰ کے ہٹلر ہیں، ہم نے یورپ سے سیکھا ہے کہ مفاہمت کام نہیں کرتی لہذا ہم نہیں چاہتے کہ ایران میں بھی نیا ہٹلر ہو اور وہ وہی کرے جو کسی زمانے میں یورپ میں ہوا تھا۔

Check Also

بابری مسجد شہید کرنے والے سکھ نے قبول اسلام کے بعد 90 مساجد بنا دیں

نئی دہلی: بابری مسجد کو شہید کرنے والے سکھ نے قبول اسلام کے بعد 90 ...

Leave a Reply

%d bloggers like this: