Home / Pakistan / پہلے سے مشکوک اقوام متحدہ کیا اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے

پہلے سے مشکوک اقوام متحدہ کیا اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے

وہ دانشور طبقے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر حیرانی اور صدمے کے باعث کافی عرصے تک اختلاجی کیفیت سے دوچار رہنے کے بعد یہ کہتے تھے کہ مسٹر ٹرمپ کو کسی ایسے ایجنڈے کی تکمیل کے لئیے لایا گیا ہے جو کسی پیشہ آور مضبوط سیاست سے کرانا ممکن نہ تھا آج جب مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم اسرائیل کا دارلخلافہ تسلیم کرکے بحرانوں اور بد امنی کا شکار دنیا کو تاریخ کے ایک اور بڑے بحران سے دوچار کردیا ہے ، ان دانشور طبقات کی پیش گوئیوں کو تقویت ملتی ہے کہ مسٹر ٹرمپ کو ایک ایسے ایجنڈے کی تکمیل کے لئیے لایا گیا تھا جو دنیا بھر کے لئیے ہی نہیں خود امریکی عوام کے لئیے بھی حیران کن ہے ،دنیا بھر میں امن کے دعوے دار اور انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار امریکہ نے اس فیصلے سے نہ صرف مسلمانوں کو شدید ناراض اور مایوس کیا ہے بلکہ یورپ چین روس اور باقی دنیا کی اکثریت بھی عالمی صورت حال کے پسمنظر میں اس فیصلے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے مسلم آبادی جو پہلے ہی منتشر اور آپس میں گتھم گھتا ہے اور انتہا پسندی دہشتگردی کے ساتھ فرقہ واران تقسم کے ساتھ سیاسی تقسیم کا بھی شکار ہے اور پہلے سے اسکی ایک بڑی تعداد امریکہ سے ناراض ہے مذید ناراضگی کی اظہار کے سوا کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں جبکہ مسلم آبادی کے بیشتر جمہوری غیر جمہوری حکمراں جو پہلے ہی امریکہ کی ضمانت اور تحفظ کی آڑ میں اپنی اپنی عوام پر مظالم ڈھانے میں مصروف ہیں اور پھر اسی امریکہ کے ہاتھوں ایک ایک کرکے اپنے انجام سے دوچار ہیں، اس موقع پر بھی کہ جب پوری دنیا امریکہ کے اقدام کی مذمت کررہی ہے یہ حکمران در پردہ امریکہ کے ہی ایما پر خاموش ہیں مگر کیا امریکہ اپنی طاقت ٹیکنالوجی کی سپریمیسی کے باوجود اخلاقیات کی تاریخ میں بھی ایسے فیصلوں کے باعث اپنا مقام قائم رکھ سکے گاجواس نے جنگ عظیم دوئم میں جاپان میں ایٹم بم مار کر پہلے ہی متنازعہ بنا رکھا تھا ۔۔؟ اسی کے ساتھ امریکہ کے اس فیصلے سے وہ اقوام متحدہ جو کمزور اور غریب اور مسلم آبادی میں پہلے ہی اپنے کردار کے پسمنظر میں وقعت کھو چکی ہے کیا اب اپنا وجود بھی برقرار رکھ پائے گی ۔۔؟کہ امریکہ نے اس اعلان کے ذریعے جہاں ایک طرف اخلاقی قدروں اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائیں ہیں وہیں اقوام متحدہ کی اسرائیل فلسطین تنازعے کے پسمنظر میں موجود قراردادوں کو بھی اپنی طاقت سے روند ڈالا ہے ، آج امریکہ سے پوری دنیا کی خواھشات کو نظر انداز کرکے اپنی پالیسیاں دنیا پر نافذ کرنے کی کوشش کے حوالے سے سوال کیا جارہا ہے کیا یہ اقوام متحدہ صرف چھوٹے ملکوں پر بڑے ملکوں کی چڑھائ اور چھوٹی کمزور قوموں کی نسل کشی کے لئیے قائم کیا گیا تھا جہاں ان بڑے طاقتور ملکوں کو چھوٹی قوموں پر بارود گولے کا عذاب نازل کرنے کے لئیے اپروول بھی انہی قوموں یا ان جیسی قوموں سے لیا جائے جن پر یہ عذاب نازل کئیے جاتے ہیں ۔۔۔؟
امریکہ اور یورپ کے بعض دانشور حلقے امریکہ کےاس فیصلے کے تناظر میں اصرار سے کہتے ہیں دنیا میں اس فیصلے سے بڑے پیمانے پر انتشار پھیلے گا اور اور امریکہ کو اس انتشار کا شعور بھی ہے اور شائد ایسے کسی انتشار میں ہی امریکہ کا کوئ مفاد چھپا ہوا ہے، یہ دانشور حلقے سمجھتے ہیں امریکہ کے اس قدام کو درون خانہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مکمل حمائت حاصل ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کے ساتھ لبنان اور یمن شام معملات میں امریکہ نے سعودی عرب کے لئیے جو کچھ کیا ہے،وہ سعودی عرب اور اس کے زیر اثر یو اے ای کی جانب سے امریکہ کا یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کے لئیے تحفہ ہے ،دانشور حلقے سمجھتے ہیں مسلم ممالک کی تنظیم او آی سی یا عرب لیگ میں اکثریت ان ممبران کی ہے جو امریکہ کے دست نگر ہیں اس لئیے سفارتی سطح پر تو یہ معاملہ جلد نمٹ جائے گا مگر دنیا کے عام انسانوں بالخصوص مسلم آبادیوں میں جو پہلے ہی دہشتگردی اور انتہا پسندی کے باعث بیمار معاشروں میں شمار ہوتی ہیں امریکہ کے اس اقدام سے مزید بد امنی پھیلے گی ،انتہا پسندی کا عفریت جس پر قدرے قابو پانے کے دعوے کئیے جارہے تھے اسے ایک بار پھر تقویت ملے گی اور عام ادمی جو پہلے ہی امارت اور غربت کے بڑھتے فرق کی وجہ ،جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون کے تیزی سے بڑھتے فروغ کو سمجھتا ہے اب یقین کرنے پر مجبور ہوگا تمام انسانی ترقی اور انسانی آزادیوں ،حقوق کے دعووں کے باوجود دنیا میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوسکا بلکہ ماضی کے مقابلے میں یہ دنیا مزید بھیانک ہوچکی ہے اور اب یہاں کمزور فرد یا نیشن کی آزادی اسکی معیشت خواب پریشاں سے کسی طور زیادہ نہیں

Check Also

بابری مسجد شہید کرنے والے سکھ نے قبول اسلام کے بعد 90 مساجد بنا دیں

نئی دہلی: بابری مسجد کو شہید کرنے والے سکھ نے قبول اسلام کے بعد 90 ...

Leave a Reply

%d bloggers like this: